مواد پر جائیں

133دن10گھنٹے38منٹبسنت 2027 تک

گائیڈز · بانس اور تیلا

پتنگ کا بانس: بانس، تیلا اور لاہوری پتنگ کی تیلیاں

لاہوری پتنگ کا ڈھانچہ چھیلے ہوئے بانس سے بنتا ہے: ایک سیدھا ٹھڈا اور ایک خم دار کانپ۔ تیلا غالباً تیار چھیلی ہوئی پتنگ کی تیلیوں کو کہتے ہیں۔ پتنگ سازوں کے مطابق پتنگ کا بانس درآمد ہوتا ہے، حال میں بنگلہ دیش سے، اور اکتوبر 2026 میں ایک کے مطابق ایک گٹھا 25,000 تا 28,000 روپے تک پہنچ گیا۔

بسنت 2027 ایک نظر میں

ہمارے حقائق کے جدول سے مختصر جوابات۔ ہر جواب کے ساتھ اس کا ماخذ اور آخری تصدیق کی تاریخ موجود ہے۔

  • پتنگ کا بانس کہاں سے آتا ہے؟

    زیادہ تر درآمد شدہ

    لاہوری پتنگ کا ڈھانچہ چھیلے ہوئے بانس سے بنتا ہے۔

    رپورٹ شدہ (ایک ماخذ)تفصیل اور حوالہ

    لاہوری پتنگ کا ڈھانچہ چھیلے ہوئے بانس سے بنتا ہے۔ 2026 میں لاہور کے ایک مینوفیکچرر نے کہا کہ پتنگ کا بانس بنگلہ دیش سے درآمد ہوتا ہے اور آسانی سے نہیں مل رہا؛ 2018 کی تحقیق میں لاہور کے پتنگ سازوں نے بتایا کہ یہ مقامی کاشتکاروں سے یا بھارت، جاپان، برازیل اور تھائی لینڈ سے آتا ہے، اور کٹا ہوا بانس لاہور کے بانساں والا بازار میں بکتا ہے۔ پنجاب کے کھیتوں میں بھی بانس اگایا جاتا ہے۔

    رپورٹ شدہ (ایک ماخذ)ماخذ: Dawn

  • سامان کتنے کا ہے؟

    ایک رم 7,000 تا 14,000 روپے

    پتنگ کا کاغذ، پہلے 3,200 تا 3,800 روپے: ایک مینوفیکچرر کے اعداد، ہماری قیمتیں نہیں۔

    رپورٹ شدہ (ایک ماخذ)تفصیل اور حوالہ

    اکتوبر 2026 میں لاہور کے ایک لائسنس یافتہ پتنگ اور ڈور ساز نے ڈان کو بتایا کہ بسنت 2027 کی تاریخ بدلنے کے بعد خام مال مہنگا ہو گیا: پتنگ کے کاغذ کا 480 شیٹ والا رم 3,200 تا 3,800 روپے سے 7,000 تا 14,000 روپے، بنگلہ دیش سے درآمد شدہ بانس کا ایک گٹھا 12,000 تا 15,000 روپے سے 25,000 تا 28,000 روپے، اور دھاگا برانڈ کے حساب سے 2,800 روپے سے 4,800 تا 6,500 روپے ہو گیا، جبکہ مزدوری دگنی ہو گئی۔ یہ ایک مینوفیکچرر کے اعداد ہیں، مارکیٹ سروے نہیں، اور ہماری قیمتیں نہیں۔

    رپورٹ شدہ (ایک ماخذ)ماخذ: Dawn

  • ایک پتنگ بنانے کی لاگت کیا ہے؟

    ایک پتنگ 100 تا 150 روپے

    بسنت 2026 میں قانونی سائز کی پتنگ کے لیے لاہور کے ایک تجربہ کار پتنگ ساز کا اندازہ۔

    رپورٹ شدہ (ایک ماخذ)تفصیل اور حوالہ

    تقریباً چار دہائیوں سے اس کام سے وابستہ لاہور کے ایک پتنگ ساز کے اندازے کے مطابق بسنت 2026 میں قانونی سائز کی ایک پتنگ بنانے کی لاگت سامان کے حساب سے 100 تا 150 روپے ہونی چاہیے تھی، جبکہ فروخت کے پہلے چار دنوں میں موچی دروازے پر پرچون قیمتیں تقریباً تین گنا ہو گئیں۔

    رپورٹ شدہ (ایک ماخذ)ماخذ: Al Jazeera

اس صفحے پر

لاہوری پتنگ کے کون سے حصے بانس کے ہوتے ہیں؟

دو طرح کی تیلیاں: سیدھا ٹھڈا، جسے لاہور کے پتنگ ساز گز بھی کہتے ہیں، اور خم دار کانپ یا کمان، اور پتنگ میں نیچے کی ایک پتلی کمان۔

لاہوری پتنگ میں بانس
حصہنامکام
ریڑھٹھڈا، گزاوپر سے نیچے تک سیدھی تیلی؛ موٹی اور عموماً گول
کمانکانپ، کمان یا کمانی جوڑااوپر کی خم دار تیلی جو پتنگ کو چوڑائی دیتی ہے؛ آنچ پر موڑی جاتی ہے
نچلی کمانپینڈی کمانپتلی خم دار تیلی جو پتنگ کے نچلے حصے کو شکل دیتی ہے
پتلی پٹیتیلیبانس کی کوئی بھی پتلی کٹی ہوئی پٹی؛ لغت ٹھڈے اور کانپ دونوں کو تیلی کہتی ہے

جہاں کانپ ٹھڈے کو کاٹتی ہے وہی پتنگ کی سب سے چوڑی جگہ ہے، اور قانونی چوڑائی یہیں ناپی جاتی ہے: پتنگ زیادہ سے زیادہ 35 انچ اور گڈا زیادہ سے زیادہ 40 انچ چوڑا ہو سکتا ہے۔ کسی بھی پتنگ کو پتنگ سائز چیکر سے جانچیں، اور ٹیڑھی کانپ ہوا میں کیا کرتی ہے یہ پتنگ کا توازن میں دیکھیں۔

پتنگ سازی میں تیلا کیا ہوتا ہے؟

تیلا (جمع تیلے) غالباً تیار چھیلی ہوئی بانس کی تیلیوں کو کہتے ہیں، جو ٹھڈے اور کانپ کے جوڑوں میں بکتی ہیں؛ تیلی خود پتلی پٹی ہے۔ ہمیں لاہور کا کوئی ذریعہ نہیں ملا جو تجارتی مطلب یا ریٹ کی تصدیق کرے۔

تفصیل پڑھیں

اردو لغات تیلی کو بانس کی باقاعدہ تراشی ہوئی پتلی پٹی کہتی ہیں، اور پتنگ کے ٹھڈے اور کانپ دونوں کو تیلی ہی کہتی ہیں۔ سرحد پار پتنگ کی تیلیاں بیچنے والے چھیلے ہوئے ٹھڈے اور کانپ کے سیٹ کو "پتنگ کی تیلے" لکھتے ہیں، جو لاہور میں تیلا مانگنے کے انداز سے میل کھاتا ہے۔ جب تک لاہور کا کوئی سپلائر تصدیق نہ کرے، اسے ممکنہ مطلب سمجھیں، تعریف نہیں۔

لاہور کا مطلب جانتے ہیں؟

اگر آپ موچی دروازے یا بانساں والا بازار میں تیلیوں کا کام کرتے ہیں اور یہ لفظ کسی اور معنی میں بولتے ہیں تو ہمیں واٹس ایپ پر بتائیں، ہم یہ صفحہ درست کریں گے اور آپ چاہیں تو آپ کا نام بھی لکھیں گے۔

پتنگ کا بانس کہاں سے آتا ہے؟

زیادہ تر درآمد ہوتا ہے: لاہور کے ایک مینوفیکچرر نے 2026 میں بتایا کہ پتنگ کا بانس بنگلہ دیش سے آتا ہے اور آسانی سے نہیں مل رہا، جبکہ پرانی تحقیق میں مقامی کاشتکاروں اور بھارت، جاپان، برازیل اور تھائی لینڈ کا ذکر ہے۔

تفصیل پڑھیں

پاکستان میں بانس اگتا ہے، پنجاب کے کھیتوں میں، مگر پتنگ سازوں کو سیدھا، باریک ریشے والا بانس چاہیے جو برابر چِرے اور مڑے، اور ان کے مطابق یہ درجہ زیادہ تر درآمد ہوتا ہے۔ لاہور میں کٹا ہوا پتنگ کا بانس عرصے سے بانساں والا بازار میں بکتا ہے، اور تیار پتنگیں موچی دروازے اور شہر کی دوسری پتنگ مارکیٹوں میں بکتی ہیں۔

اندرونِ شہر کا موچی دروازہ لاہور میں پتنگ اور ڈور کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، جسے رائٹرز نے پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹ کہا۔ بسنت 2026 میں اسلام پورہ، سمن آباد، سانڈہ، نونارییاں اور اچھرہ میں بھی پتنگوں کی خرید و فروخت ہوئی، اور لبرٹی چوک فروخت کا نیا مرکز بنا۔

تصدیق شدہماخذ: Reuters (via bdnews24)

2026 میں پتنگ کا بانس کتنے کا ہے؟

واحد شائع شدہ رقم گٹھے کی ہے: اکتوبر 2026 میں ایک مینوفیکچرر کے مطابق درآمد شدہ پتنگ کے بانس کا ایک گٹھا 12,000 تا 15,000 روپے سے بڑھ کر 25,000 تا 28,000 روپے ہو گیا۔

2026 میں رپورٹ ہونے والی پتنگ سازی کی لاگت (مینوفیکچررز کے اعداد، ہماری قیمتیں نہیں)
چیزرپورٹ شدہ لاگتذریعہ اور تاریخ
پتنگ کے بانس کا گٹھا، تاریخ بدلنے سے پہلے12,000 تا 15,000 روپےایک مینوفیکچرر، ڈان، اکتوبر 2026
پتنگ کے بانس کا گٹھا، بعد میں25,000 تا 28,000 روپےوہی خبر
دھاگا، پہلے اور بعد میں2,800 روپے سے 4,800 تا 6,500 روپےوہی خبر؛ اکائی نہیں بتائی گئی
قانونی سائز کی ایک پتنگ بنانے کی لاگت100 تا 150 روپےایک تجربہ کار پتنگ ساز، الجزیرہ، بسنت 2026

کسی نے یہ شائع نہیں کیا کہ ایک گٹھے میں کتنی تیلیاں ہوتی ہیں، فی تیلی قیمت کیا ہے، یا ایک کلو میں کتنی تیلیاں آتی ہیں، اس لیے ہم کوئی عدد نہیں دیتے۔ تیار پتنگوں کی قیمتوں کے لیے قیمتوں کا ٹریکر دیکھیں؛ وہ بھی مارکیٹ کے مشاہدات ہیں، اور ہم بانس نہیں بیچتے۔

پتنگ ساز بانس کیسے تیار کرتے ہیں؟

وہ بانس کو چپٹی یا گول تیلیوں میں چھیلتے ہیں، ہر تیلی کو چراغ کی آنچ پر سیدھا کر کے موڑنے کی جگہیں بناتے ہیں، پھر کاغذ لگانے سے پہلے ڈھانچہ باندھ کر چپکاتے ہیں۔

  1. چھیلنا اور کاٹنا

    بانس کو چاقو سے چھیل کر کانپ کے لیے چپٹی اور ٹھڈے کے لیے گول تیلیاں بنائی جاتی ہیں، پھر پتنگ کے سائز کے مطابق کاٹی جاتی ہیں۔

  2. آنچ دینا

    روایتی چراغ مقررہ جگہوں پر تیلی کو مضبوط کرتا ہے، اسے سیدھا کرتا ہے اور کانپ کے مڑنے کی جگہ بناتا ہے؛ اس سے بننے والے چھوٹے سیاہ نشان سجاوٹ کے طور پر رکھے جاتے ہیں۔

  3. کانپ موڑنا

    کانپ کو ٹھڈے کے دونوں طرف برابر موڑا جاتا ہے، کیونکہ ٹیڑھی کانپ پتنگ کو ایک طرف کھینچتی ہے۔

  4. چپکانا اور باندھنا

    لاہوری پتنگ ساز لیوی سے چپکاتے ہیں، جو گندم کے آٹے، نمک، چینی اور پانی کا لیپ ہے اور موسم کے حساب سے بنایا جاتا ہے، اور جوڑوں کو باریک سوتی دھاگے سے باندھتے ہیں۔

پتنگ کے بانس کی مارکیٹ میں کیا ہو رہا ہے؟

رسد کم ہے: اکتوبر 2026 میں پتنگ سازوں نے بانس کی کمی اور دگنی قیمتوں کی شکایت کی، جبکہ 5,200 سے زائد لائسنس یافتہ پتنگ ساز بسنت 2027 کی تیاری کر رہے ہیں اور پولیس بغیر لائسنس ورکشاپوں پر چھاپے مار رہی ہے۔

  • کمی: تاریخیں جنوری کی طرف جانے کے بعد ایک لائسنس یافتہ مینوفیکچرر نے ڈان کو بتایا کہ پتنگ کا بانس "آسانی سے دستیاب نہیں"؛ تہوار اب دوبارہ مارچ (12 تا 14 مارچ 2027) میں ہے۔
  • لائسنس: 10 اکتوبر 2026 تک 5,200 یا اس سے زیادہ پتنگ اور ڈور سازوں کو لائسنس ملے، جو پچھلے سال کے 1,337 کا تقریباً چار گنا ہے۔
  • چھاپے: لاہور میں پولیس بغیر لائسنس ورکشاپوں سے تیار پتنگیں اور خام مال ضبط کر رہی ہے؛ بغیر لائسنس بیچنے کے لیے پتنگ بنانا جرم ہے۔
  • فروخت کا کیلنڈر: تیار پتنگیں عوام تک صرف رجسٹرڈ دکانداروں کے ذریعے پہنچیں گی، 10 فروری تا 14 مارچ 2027، صرف رجسٹرڈ دکانداروں سے۔

ہماری موجودہ صورتحال

سیلر رجسٹریشن زیرِ عمل ہے۔ فروخت صرف پنجاب سیلر سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد شروع ہوگی۔

واٹس ایپ ویٹ لسٹ میں شامل ہوں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا پاکستان میں بانس ملتا ہے؟

ہاں، پنجاب کے کھیتوں میں بانس اگایا جاتا ہے، مگر پتنگ سازوں کے مطابق پتنگ کے قابل زیادہ تر بانس درآمد ہوتا ہے، حال میں بنگلہ دیش سے۔

پتنگ میں کانپ کیا ہوتی ہے؟

کانپ پتنگ کے اوپر کی خم دار بانس کی کمان ہے؛ لاہور کے پتنگ ساز اسے کمان بھی کہتے ہیں۔ جس سیدھی تیلی کو یہ کاٹتی ہے وہ ٹھڈا یا گز ہے۔

ایک کلو میں بانس کی کتنی تیلیاں آتی ہیں؟

لاہور کے لیے کوئی قابلِ اعتماد شائع شدہ عدد نہیں: تیلیاں پتنگ کے سائز اور چھلائی کی باریکی سے بدلتی ہیں۔ سپلائر سے پوچھیں کہ ایک گٹھے میں کتنے ٹھڈے اور کانپیں ہیں۔

لاہور میں پتنگ بنانے کے لیے کون سی گوند استعمال ہوتی ہے؟

روایتی طور پر لیوی، جو گندم کے آٹے، نمک، چینی اور پانی کا لیپ ہے؛ پتنگ ساز موسم کے حساب سے نمک اور چینی کم یا زیادہ کرتے ہیں۔

2026 میں پتنگ کے بانس کا ایک گٹھا کتنے کا تھا؟

اکتوبر 2026 میں ایک مینوفیکچرر کے مطابق 25,000 تا 28,000 روپے، جو پہلے 12,000 تا 15,000 روپے تھا۔ یہ مارکیٹ کی خبر ہے، ہماری قیمت نہیں۔

حوالہ جات (26)

  1. Dawn — Stakeholders see January Basant schedule unfeasible (6 اکتوبر 2026)
  2. Amjad Parvaiz — Patang: The Fighter Kite of Punjab, Pakistan: Material, Structure and Making (Khoj, University of the Punjab, 2018)
  3. FAO — World bamboo resources (2007): bamboo farming in Punjab
  4. Wikipedia — Units of paper quantity (the 480-sheet 'short' ream used for tissue paper)
  5. Al Jazeera — 'Magical atmosphere': Kite fever lights up Lahore as Basant boosts economy (6 فروری 2026)
  6. Reuters (via bdnews24) — Kite festival returns to Lahore after long ban (7 فروری 2026)
  7. INP — Basant fever: kite sales cross Rs1.50 billion in Lahore (6 فروری 2026)
  8. Pakistan Today — Bo kata echoes across Lahore as Basant revives colour, commerce and caution (6 فروری 2026)
  9. The Nation — Over 5,200 kite manufacturers licensed for Basant 2027 (12 اکتوبر 2026)
  10. City42 — بسنت 2027: مینوفیکچررز کو لائسنس کا اجراء جاری، درخواستوں کا انبار لگ گیا (10 اکتوبر 2026)
  11. The News (APP) — Over 5,200 kite makers issued licences for Basant 2027 (12 اکتوبر 2026)
  12. Punjab Police — Punjab Police continue operations against violations of the Anti-Kite Flying Act (handout No. 551) (19 اکتوبر 2026)
  13. The News — 11,397 arrested over violation of Anti-Kite Flying Act this year (20 اکتوبر 2026)
  14. Punjab Basant portal (official) — Safety rules (15 اکتوبر 2026)
  15. Dawn — Lahore DC gives formal go-ahead for 3-day Basant festivities in March 2027, outlines conditions and restrictions (23 اکتوبر 2026)
  16. Dawn — Punjab reverts to three-day Basant fest in March (24 اکتوبر 2026)
  17. Pakistan Today — Lahore fixes Basant 2027 for March 12-14, imposing strict kite-flying rules (24 اکتوبر 2026)
  18. Express News — لاہور؛ بسنت کیلئے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا (23 اکتوبر 2026)
  19. The Express Tribune — Punjab govt reschedules Basant 2027 in Lahore for second time, sets March dates (20 اکتوبر 2026)
  20. Dawn — Lahore to celebrate 10-day Basant festival from Jan 29 to Feb 7 next year (withdrawn plan) (30 ستمبر 2026)
  21. The Nation — Basant 2027 to be celebrated in Lahore from March 12 to 14 (August announcement) (18 اگست 2026)
  22. WE News — لاہور میں 12 سے 14 مارچ 2027 تک بسنت منانے کی باضابطہ اجازت، شرائط اور پابندیاں عائد (23 اکتوبر 2026)
  23. Rekhta Dictionary — kaanp (کانپ): the curved rib of a paper kite
  24. Rekhta Dictionary — ThaDDaa (ٹھڈا): the spine of a paper kite
  25. Rekhta Dictionary — tiilii (تیلی): a thin strip of cut bamboo
  26. Daily Pakistan — DC Lahore proposes March 12–14 dates for Basant 2027 (material costs) (17 اکتوبر 2026)
واٹس ایپ ویٹ لسٹ میں شامل ہوں